انفراضامن کا مقصد پاکستان میں مقامی کرنسی سے انفراسٹرکچر کے لیے طویل مدتی سرمایہ کاری کے لیے نجی شعبے کے ساتھ مل کر کام کرنا ہے ، اس کے ساتھ سماجی اور معاشی ترقی کے مقاصد کے حصول کے لیے بھی معاونت کے لیے کوشاں رہنا بھی شامل ہے ۔
پاکستان میں مقامی کرنسی میں قرضے کے اعشاریوں کی توسیع کے ذریعے انفراسٹرکچر کے لیے قرضوں پر محیط سرمایہ کاری میں مارکیٹ کی ناکامیوں کی نشاندہی کرناہمارا مشن ہے ۔
پرائیویٹ انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ گروپ (PIDG) ایک جدید انفراسٹرکچر پروجیکٹ ڈویلپر اور سرمایہ کار ہے جو ذیلی صحارا افریقہ، جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا میں پائیدار اور شمولیتی انفراسٹرکچر میں نجی سرمایہ کاری کو متحرک کرتا ہے۔
PIDG اپ اسٹریم اور ابتدائی مرحلے کی سرگرمیوں کے لیے تکنیکی معاونت اور رعایتی سرمایہ فراہم کرتا ہے؛ اپنے پروجیکٹ ڈویلپمنٹ کے پروگرام InfraCo کے ذریعے ابتدائی مرحلے کے پروجیکٹ ڈویلپمنٹ اور پروجیکٹ و کارپوریٹ ایکویٹی میں سرمایہ کاری کرتا ہے؛ اس کی قرضی سہولت EAAIF (Emerging Africa & Asia Infrastructure Fund) کم آمدنی والے ممالک میں ابتدائی اور کامیاب ترین بلینڈڈ ڈیبٹ فنڈز میں سے ایک ہے؛ جبکہ اس کی گارنٹی سہولت GuarantCo منصوبوں کے خطرات کم کرنے کے لیے کریڈٹ انہانسمنٹ اور مقامی کرنسی کے حل فراہم کرتی ہے۔
PIDG مقامی کریڈٹ انہانسمنٹ سہولیات کے ایک بڑھتے ہوئے پورٹ فولیو کی بھی حمایت کرتا ہے، جو انفراسٹرکچر فنانسنگ کے لیے ملکی ادارہ جاتی سرمائے کو متحرک کرتی ہیں۔ مزید معلومات کے لیے وزٹ کریں: www.pidg.org
اثر (Impact):
InfraCo Asia’s portfolio spans 12 countries in South and Southeast Asia. InfraCo Asia provides early-stage development capital and expertise to catalyse sustainable infrastructure projects in the region’s emerging and frontier markets.
Impact
* Based on projects in operation and under construction
https://infracoasia.com/
کارنداز پاکستان اگست 2014 میں زیرِ دفعہ 42 ایک خاص مقصد کے لیے غیر منافع بخش گاڑیوں کا سیٹ اپ بنایاگیا۔ کارنداز برطانیہ کے فارن ، کامن ویلتھ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس(FCDO )کے انٹرپرائز اینڈ ایسیٹ گروتھ پروگرام (EAGR )کا عملی شراکت دار ہے ۔ کارنداز سرمایہ کاری کے دوطرحی پلیٹ فارم کے ذریعے مائیکرو، سمال اینڈ میڈیم بزنس کے لیے سرمایہ کاری تک رسائی کو فروغ دیتاہے اور ٹیکنالوجی سے متعلق مسائل کے حل کے لیے انفرادی طورپر لوگوں کی مالی امداد کرتاہے ۔
اثر
* دونوں ڈیبٹ اور ایکوئٹی انسٹرومنٹس میں کارنداز کا حصہ شامل ہے
** 824,000 مائیکرو۔انٹر پرائزز اور 820,000 ملازمتوں کی پاکستان مائیکروفنانس انویسٹمنٹ کمپنی (PMIC ) کے ذریعے معاونت کی گئی
https://karandaaz.com.pk/
گارنٹ کو کے پورٹ فولیو میں افریقہ اور ایشیا کے 19 ممالک اور دوملٹی کنٹری پروجیکٹس شامل ہیں۔ گارنٹ کوکی بنیاد انفراسٹرکچر پر وجیکٹس کے لیے مقامی کرنسی میں قرضے کے مسائل حل کرنے اور کم آمدنی والے ممالک میں سرمایہ کی مارکیٹوں کی ترقی اور امداد کے لیے 2005 میں رکھی گئی ۔
اثر
ماہین رحمان 2020 میں انفراضامن پاکستان کی چیف ایگزیکٹو آفیسر مقرر ہوئی تھیں اور انھوں نے پاکستان میں انفراضامن کی بنیاد رکھنے اور ابتدائی ڈھانچے کی تیاری میں اہم کردار اداکیا۔ ماہین رحمان انویسٹمنٹ بینکنگ ، ریسرچ اینڈ ایسیٹ مینجمنٹ میں 20 سال سے زائد تجربہ رکھتی ہیں ۔
اس سے پہلے ماہین رحمان الفلاح جی ایچ پی انویسٹمنٹ مینجمنٹ کی چیف ایگزیکٹو کے طورپر خدمات انجام دے چکی ہیں ، وہاں آپ کی سربراہی میں الفلاح انویسٹمنٹ پاکستان کی سرفہرست ایسیٹ مینجمنٹ کمپنیوں میں سے ایک بڑی کمپنی کے طورپر نمایاں رہی۔اس سے قبل، ماہین رحمان آئی جی آئی فنڈز کی چیف ایگزیکٹو تھیں ، اپنے دورِ ملازمت میں آپ نے آئی جی آئی فنڈز کو خسارے سے نکال کر منافع بخش ادارے میں تبدیل کیا۔آپ کی دیگر خدمات میں بی ایم اے کیپٹل مینجمنٹ کی ہیڈ آف ریسرچ، اے بی این ایمرو بینک میں ایسوسی ایٹ اور میرل لنچ میں انویسٹمنٹ بینکنگ اینا لسٹ کے عہدوں پر ملازمت شامل ہے ۔آپ کے پاس مختلف جغرافیائی معاشروں میں کام کرنے کا وسیع تجربہ ہے۔
ماہین رحمان کو 2015 میں ’’40 Under 40’s women to watch ‘‘ کی فہرست میں شامل ہونے کا اعزاز ملا۔ آپ نے مختلف فورمز پر پاکستان کی نمائندگی بھی کی ہے اس کے علاوہ گلیکسو سمتھ کلائین پاکستان میں آزاد ڈائریکٹر، اسپیشل ٹیکنالوجی زونز اتھارٹی ، پاکستان ی ڈائریکٹر ، ناصرہ پبلک اسکول کی ڈائریکٹر اور کیٹالسٹ لیبس کی ایڈوائزر کے طورپر بھی آپ نے خدمات انجام دی ہیں ۔ آپ میوچل فنڈز ایسوسی ایشن آف پاکستان کی سابقہ چیئر پرسن اور ڈائریکٹر، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف کارپوریٹ گورننس کی سابقہ ڈائریکٹرکے علاوہ وزیراعظم کی ٹاسک فورس برائے وقف املاک ٹرسٹ بورڈ کی تنظیم ِ نو کی سابق رکن بھی رہی ہیں ۔
ماہین رحمان کے وسیع تجربے اورپیشہ ورانہ کامیابیوں کے علاوہ آپ نے لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (LUMS ) سے اکنامکس میں بیچلرز آف سائنس (آنرز) کے ساتھ برطانیہ کے واروک بزنس اسکول سے فنانس اینڈ اکنامکس میں ماسٹرز آف سائنس کی سند حاصل کی ہے ۔
خسرو ممتاز انفراضامن پاکستان کے چیف رسک آفیسر (CRO ) ہیں، آپ انفراضامن کے مجموعی طورپر کریڈٹ اینڈ رسک مینجمنٹ آپریشنز، بشمول کمپلائنس رسک کی نگرانی کررہے ہیں ۔ آپ کی ذمے داری میں تمام اندرونی اور بیرونی خطرات کی نشاندہی، جانچ پڑتال، ان پر قابو پانے اورخطرات سے متعلق رپورٹنگ شامل ہے ۔
خسرو ممتاز بینکاری کا تین عشروں پر محیط تجربہ رکھتے ہیں ، ابتدائی طورپر کریڈٹ رسک / رسک مینجمنٹ / کارپوریٹ بینکنگ میں مختلف جغرافیائی معاشروں کے ساتھ کام کرنے کا ہنر جانتے ہیں ۔ انفراضامن سے پہلے ، انھوں نے جے ایس بینک لمیٹڈ میں چیف رسک آفیسر، این آئی بی بینک، پاکستان (تیماسک ہولڈنگس گروپ کا ایک ادارہ ) میں چیف رسک آفیسراور اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک، بحرین میں چیف رسک آفیسرکی حیثیت سے خدمات انجام دی ہیں ، ان اداروں میں وہ انٹرپرائزکے وسیع رسک مینجمنٹ کے ذمے دارتھے۔ انھیں کارپوریٹ / کمرشل اینڈ ایس ایم ای کے لیے قرضہ جات، اسٹرکچرڈ فنانسنگ اور پورٹ فولیو مینجمنٹ ، پالیسی اور پروڈکٹ ڈیولپمنٹ ، ضمانت کے معیارات اور رسک اسیسمنٹ کے طریقہ کاراور گاڑیوں کے لیے قرضہ جات کے نظام کی تشکیل اور رسک ریٹنگ اور پرائسنگ ماڈلز کا وسیع تجربہ ہے ۔انھوں نے اپنی پیشہ ورانہ ملازمت کا آغاز امریکن ایکسپریس بینک سے کیااور بینک سعودی فرانسی، مشرق بینک اور ایم سی بی بینک میں بھی کام کیا۔ پاکستان کے علاوہ انھوں نے سعودی عرب، متحدہ عرب اماارت اور بحرین میں بھی خدمات انجام دی ہیں ۔
خسرو ممتاز نے رائس یونیورسٹی ، امریکہ سے بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کیاہے ۔
عامر کو کارپوریٹ، انویسٹمنٹ، کمرشل اور فنانشل اداروں میں پچیس سال سے زائد کا تجربہ حاصل ہے۔ وہ جولائی 2025 سے چیف انویسٹمنٹ آفیسر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں اور کریڈٹ انہانسمنٹ ٹرانزیکشنز کی نشاندہی، اسٹرکچرنگ اور تکمیل کے لیے کمپنی کی حکمتِ عملی کی قیادت کر رہے ہیں۔
انفراضامن میں شمولیت سے قبل وہ سٹی بینک پاکستان میں ڈائریکٹر اور کنٹری ہیڈ کی حیثیت سے ملٹی نیشنل کارپوریٹس بزنس (گلوبل نیٹ ورک بینکنگ) کی نگرانی کر رہے تھے۔
وہ نیشنل مینجمنٹ فاؤنڈیشن کے بورڈ آف گورنرز کے رکن بھی رہ چکے ہیں، جو بنیادی طور پر لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز کی آپریشنل اور انفراسٹرکچر ضروریات کے لیے فنڈز جمع کرتی ہے۔
جناب محمد انس کریمی ایسوسی ایٹ ممبر ہیں ایسوسی ایشن آف چارٹرڈ سرٹیفائیڈ اکاؤنٹنٹس (ACCA) کے۔ انہوں نے متعدد نمایاں مالیاتی اداروں میں کام کیا ہے جہاں وہ بنیادی مالیات اور اندرونی کنٹرول کے شعبوں سے وابستہ رہے۔ وہ انسٹیٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان (ICAP) سے کارپوریٹ گورننس کے سند یافتہ ڈائریکٹر ہیں۔ انفراضامن میں شمولیت سے قبل، وہ سیان لمیٹڈ اور پیبلز (پرائیویٹ) لمیٹڈ — جو داؤد گروپ کی کمپنیاں ہیں — میں چیف فنانشل آفیسر اور کمپنی سیکریٹری کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں۔
ندال احمد شیخ انفرا ضامن پاکستان میں بزنس اوریجینیشن اور ایگزیکیوشن کے شعبے کی قیادت کر رہے ہیں اور سرمایہ کاری بینکاری اور اسٹرکچرڈ فنانس میں 12 سال سے زائد خصوصی تجربہ رکھتے ہیں۔ پاکستان کے کریڈٹ گارنٹی کے شعبے میں وہ باصلاحیت اور تجربہ کار ماہرین میں شمار ہوتے ہیں، اور گارنٹی سے معاونت یافتہ ٹرانزیکشنز میں ان کی شمولیت 2013 سے جاری ہے۔ انہوں نے مقامی سہولیات کے قیام سے پہلے ہی گوارنٹ کو کی معاونت سے ہونے والی نمایاں ٹرانزیکشنز، جن میں PMCL (جاز)، BYCO اور شمس پاور شامل ہیں، کی کامیاب تکمیل میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ایک دہائی پر محیط یہ تجربہ انہیں مقامی مارکیٹ کے لیے پیچیدہ کریڈٹ انہانسمنٹ سلوشنز کی اسٹرکچرنگ میں منفرد مہارت فراہم کرتا ہے۔
ندال انفرا ضامن کے قیام کے لیے تشکیل دی گئی ایڈوائزری ٹیم کے بنیادی رکن بھی رہے ہیں۔ انہوں نے ادارے کے قیام میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے پری فزیبلٹی اسٹڈی کی قیادت کی، ابتدائی ایکویٹی سرمایہ اکٹھا کیا، اور SECP اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے ریگولیٹری لائسنسز کے حصول کو یقینی بنایا۔ ان کی اسٹریٹجک بنیادوں کی بدولت انفرا ضامن کو PACRA کی جانب سے ابتدائی AAA کریڈٹ ریٹنگ حاصل ہوئی۔
اپنے موجودہ عہدے سے قبل، ندال پاک برونائی انویسٹمنٹ کمپنی میں ہیڈ آف انویسٹمنٹ بینکنگ اینڈ ایڈوائزری سروسز کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں، جہاں وہ ڈی ایف آئی کے مکمل سرمایہ کاری پورٹ فولیو کے ذمہ دار تھے اور مینجمنٹ، کریڈٹ اور رسک کمیٹیوں کے رکن رہے۔ اس وقت وہ یونین مائیکرو فنانس کے بورڈ میں بطور آزاد ڈائریکٹر اور بورڈ کریڈٹ کمیٹی کے چیئرمین خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ندال ACCA کوالیفائیڈ پروفیشنل ہیں اور یونیورسٹی آف کیمبرج سے سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ لا میں سرٹیفیکیشن بھی رکھتے ہیں۔
اسد بھٹی نے دسمبر 2021 میں انفراضامن میں ہیومن ریسورسز کے سربراہ کے طورپر کام شروع کیا۔ انفراضامن سے پہلے ، اسد بھٹی ریڈ ٹون گروپ میں ایچ آر اور انتظامی امور کے سربراہ تھے، وہاں پر انھیں گروپ کی تمام کمپنیوں کے لیے ایچ آر فریم ورک کی تیاری کی ذمے داری سونپی گئی تھی۔
انھیں فنانشل ، ٹیلی کمیونی کیشن اورآئی ٹی،بی پی او، فوڈ اینڈ بیوریجز اور لاجسٹکس انڈسٹریز میں 13 سال سے زائد مختلف عہدوں پر کام کرنے کا تجربہ ہے اور انھوں نے افرادی قوت ، اداروں کی ترقی ، ملازمین کے ساتھ تعلقات، ہمت افزائی کے انعامات، سیکھنے اور ترقی دینے ، ایچ آرآئی ایس اور ایچ آراسٹیٹیوٹری کمپلائنس میں بھی تجربہ حاصل کیاہے ۔اپنے پیشہ ورانہ ملازمت کے دوران انھوں نے ایچ آر کی بہترین روایات پرمبنی اقدامات تشکیل دیئے ، اور ان پر عملدرآمد کے ذریعے مسلسل مثبت کاروباری نتائج حاصل کیے۔ اسد بھٹی اپنی پیشہ ورانہ ملازمت کے دوران متعددنئے اداروں میں ایچ آر کے شعبے کی تشکیل اور ان میں مثبت ترقی کے امور بھی سرانجام دیتے رہے ہیں ۔
ان کے پاس ہیومن ریسورس مینجمنٹ میں ایم بی اے کی سند ہے
مریم سومرو کو مالیاتی شعبے میں دو دہائیوں سے زائد پیشہ ورانہ تجربہ حاصل ہے۔ اس وقت وہ انفرا ضامن میں ڈیولپمنٹ امپیکٹ اور HSES اسپیشلسٹ کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔ اپنے کردار میں وہ تمام سرمایہ کاریوں کے ابتدائی مرحلے کے امپیکٹ اسیسمنٹ کی نگرانی کرتی ہیں، ان کے اثرات کی مانیٹرنگ اور ایویلیوایشن کے عمل کو منظم کرتی ہیں، اور صنفی مساوات اور ماحولیاتی پائیداری کے تناظر میں پائیدار ترقی کے اثرات کو گہرا کرنے کے لیے پروگراماتی اقدامات کی قیادت کرتی ہیں۔ ڈیولپمنٹ امپیکٹ کے ساتھ ساتھ، وہ انفرا ضامن کے کلائنٹ پورٹ فولیو میں HSES سے متعلق ضروری معاونت بھی فراہم کرتی ہیں تاکہ ادارے کی حکمتِ عملی پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔
اس سے قبل وہ اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک برطانیہ کے ہیڈ آفس میں ڈائریکٹر پروگرامز، گلوبل امپیکٹ کے عہدے پر فائز رہیں، جہاں وہ عالمی سطح پر 24 مارکیٹس پر مشتمل پورٹ فولیو کی نگرانی کرتی تھیں اور کم عمر لڑکیوں کے لیے لائف اسکلز پروگرام “Goal” کی سربراہی بھی کرتی تھیں۔ انہوں نے پاکستان کے معروف بینکوں، جیسے UBL اور MCB، میں کمیونیکیشنز، کارڈز اور سسٹین ایبیلٹی کے شعبہ جات کی قیادت بھی کی ہے۔ کمرشل بینکنگ کے تجربے اور دنیا بھر میں خواتین اور کم عمر لڑکیوں کے ساتھ عملی امپیکٹ ورک نے انہیں کاروباری تناظر میں صنفی مسائل کی گہری اور عالمی سمجھ عطا کی ہے۔ وہ اسٹینڈرڈ چارٹرڈ فاؤنڈیشن کی سیکریٹری بھی رہ چکی ہیں، جہاں انہیں کارپوریٹ اور نان پرافٹ نگرانی اور گورننس میں مہارت حاصل ہوئی۔
مریم کا کیریئر مختلف شعبوں پر محیط رہا ہے، جن میں نان پرافٹس، کنزیومر فارما، فنانس، اور حالیہ طور پر گلوبل امپیکٹ اور سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ شامل ہیں۔ وہ یونیورسٹی آف ٹورینو، اٹلی سے سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ میں یورپین ماسٹرز (لیول 1)، ایم بی اے، اور بی ایس سی آنرز کی ڈگریاں رکھتی ہیں۔ وہ انٹرنیشنل کوچنگ فیڈریشن سے تربیت یافتہ ACC کوچ اور NLP پریکٹیشنر بھی ہیں۔ اس کے علاوہ، وہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف کارپوریٹ گورننس سے سرٹیفائیڈ انڈیپنڈنٹ ڈائریکٹر بھی ہیں۔
وحید کھتری ہمارے ساتھ بطور VP اور ہیڈ آف مارکیٹنگ اور کارپوریٹ کمیونیکیشنز میں شامل ہوئے ہیں۔ وحید کو پاکستان میں مارکیٹنگ کا بارہ سال کا تجربہ ہے۔ ان کا پچھلا کردار الفلاح انویسٹمنٹ میں مارکیٹنگ اور ڈیجیٹل ہیڈ کے طور پر تھا جہاں انہوں نے کارپوریٹ کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ کو تیار کرنے اور کمپنی کے برانڈ اور آؤٹ ریچ پروگراموں کو بڑھانے میں تین سال گزارے۔ وحید نے مختلف ڈیجیٹل اور برانڈنگ ایجنسیوں جیسے اورنج روم، نمبرز ڈیجیٹل اور مائی جیریز میں بھی کام کیا ہے۔ ان کی مہارت موثر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، برانڈ مینجمنٹ، کلائنٹ اور پروڈکٹ کی رسائی کے ساتھ ساتھ آگاہی اور صلاحیت کی تعمیر کے لیے مہم کے پروگرام تیار کرنے میں ہے۔
حرا صدیقی ایک قانونی پیشہ ور ہیں جنہیں کارپوریٹ گورننس، ریگولیٹری کمپلائنس اور تنازعات کے حل (ڈسپیوٹ ریزولوشن) میں مہارت حاصل ہے۔ وہ اس وقت انفرا ضامن پاکستان لمیٹڈ میں اسسٹنٹ منیجر لیگل اینڈ کارپوریٹ افیئرز کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں، جہاں وہ ادارے کے قانونی اور کارپوریٹ معاملات کی نگرانی اور انتظام کی ذمہ دار ہیں۔
وہ یونیورسٹی آف لندن سے ڈگری کی حامل ہیں اور سرٹیفائیڈ سول و کمرشل میڈی ایٹر بھی ہیں۔ اس وقت وہ بی پی پی یونیورسٹی، برطانیہ سے بار ایٹ لا کر رہی ہیں اور اپنی قانونی مہارت کو مزید وسعت دے رہی ہیں، خاص طور پر کارپوریٹ لا، ثالثی
عامرہ اسلام نے مئی 2021میں منیجر ایڈمنسٹریشن کے طورپر انفرا ضامن میں کام کا آغاز کیا ۔ اس عہدے پر وہ ادارے میں انتظامی امور کی نگرانی کرتی ہیں۔
عامرہ اسلام کے پاس ایگزیکٹیو سیکریٹریل اور ایڈمنسٹریشن کا 10سال کا تجربہ ہے۔ انفرا ضامن پاکستان سے پہلے انہوں نے الفلاح CHPانویسٹمنٹ، R&Iالیکٹریکل اپلائنسز( کین ووڈ اور ہوم ایج)، سیمنز پاکستان او ر سرور 4سیل نامی معروف اداروں میں خدمات انجام دی ہیں۔
کین ووڈ میں ملازمت کے دوران ، انہیں سی ای او کی سیکریٹری کے ساتھ پورٹ قاسم پر نئی فیکٹری کی تعمیر کے لیے سول انجینئرنگ سے متعلق کام کے لیے کو آرڈی نیٹر کی حیثیت سے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر خراج تحسین پیش کیا گیا۔
عامرہ اسلام نے ( پی اے ایف KIET) سے ہیومن ریسورسز میں ایم بی اے کی سند حاصل کی ہے۔
بُو ہوک نے فنانشل سیکٹر میں مختلف عہدوں پرخدمات انجام دی ہیں، ان کے 30سالہ وسیع تجربے میں کارپوریٹ، پروجیکٹ، سیکورٹائزیشن اور اسٹرکچرڈ فنانس بانڈز،اور پروجیکٹ فنانس کنسلٹنسی اینڈ پرائیویٹ ایکوئٹی شامل ہیں۔
انفراضامن پاکستان میں انتطامیہ کو اپنے مشوروں سے مستفید کرنے سے پہلے ، بُو ہوک ملائیشیا کی پہلی فنانشل گارنٹیز کمپنی ڈانا جامن،کے ڈپٹی سی ای او تھے۔وہاں پر انہوں نے مجموعی طورپر آئیڈیاز اور تصورات اور انتظامیہ کی سربراہی میں اپنے جوہر دکھائے۔بُوہوک نے ایشین ڈیولپمنٹ بینک کے شعبے کریڈٹ گارنٹی اینڈ انویسٹمنٹ فیسلٹی (CGIF)گارنٹی ٹرسٹ فنڈ سے پیشہ روانہ ملازمت کا آغاز کیا۔ نائب صدر کی حیثیت سے انہوں نے (CGIF) کی ٹیم اور پروفائل مستحکم کی اور پورے ASEANریجن میں 1.6ارب امریکی ڈالرز کے مساوی زیرو کلیم گارنٹی پورٹ فولیو بنایا۔CGIFمیں ، بو ہوک نے نئے گارنٹی اسٹرکچرز کی ترقی کے علاوہ جنوبی ایشیا میں مقامی کرنسی بانڈ مارکیٹوں کے لیے متعدد کامیابیاں حاصل کیں،جس میں ASEANکے پہلے مقامی کرنسی بانڈ کی دوبارہ انشورنس کا معاہد ہ شامل تھا۔
انہوں نے مائونٹ یونین کالج سے بی ایس سی اور اوہیو یونیورسٹی سے ایم بی اے کیا ہے۔
نوید گورایہ انویسٹمنٹ بینکنگ میں 25سالوں پر محیط عالمی سطح کا تجربہ رکھتے ہیں۔ کارندازمیں سی ای او کے طورپر تقرری سے پہلے، انہوں نے نیویارک میں واقع بڑی اسٹریٹجک ایڈوائزری فرم، وائٹ اوک ایڈوائزرز انکریمنٹ میں کام کیا جوکہ دنیا بھر میں مالیاتی اداروں کو اپنے مشور ے دیتی ہے۔اس سے پہلے ، ایچ ایس بی سی، امریکہ میں نوید نے ایچ ایس بی سی کے خصوصی انویسٹمنٹ فنڈ ز میں تقریباً6ارب امریکی ڈالرز کا اضافہ کیا اور گلوبل ویلتھ ٹیم کے سربراہ کے طورپر کام کیاجس میں نارتھ امریکہ ، دی GCC، اور سائوتھ ایسٹ ایشیا شامل ہیں۔ انہوں نے IICGبحرین، قطر انٹرنیشنل بینک اور رائل بینک آف اسکاٹ لینڈ میں بھی انویسٹمنٹ بینکنگ ٹیموں کی سربراہی کی ہے۔
نوید نے آئی بی اے ، کراچی یونیورسٹی سے ایم بی اے کیا ہے۔ انہوں نے کارنداز کی مختلف انویسٹی کمپنیز میں نامزد ڈائریکٹر کے طورپر بھی خدمات انجام دی ہیں۔
فلپ اسکنر ، گارنٹ کو (GuarantCo)کی گلوبل ایگزی کیوشن ٹیم کے منیجنگ ڈائریکٹر ہیں۔ 2016میں ’’گارنٹ کو‘‘میں کام کے آغاز سے لے کر اب تک فلپ نے افریقہ اور ایشیا میں پاکستان کے جغرافیائی ماحول پر خصوصی توجہ کے ساتھ متعدد انفراسٹرکچر پروجیکٹس پر کام کیا ہے۔ آج کل وہ گارنٹ کو میں ٹیم کے سربراہ ہیں جوکہ انتہائی ذمہ داری، تفصیلی اسٹرکچرنگ، کریڈٹ کی منظوریوں اور دستاویزات کی جانچ پڑتال کرتی ہے اور سالانہ 250ملین ڈالرز کی گارنٹی ٹرانزیکشنز کی ذمہ دار ہے۔
گارنٹ کو سے پہلے ، فلپ نے یوکے گرین انویسٹمنٹ بینک کے لیے کام کیا ہے۔یہاں پر انہوں نے برطانیہ میں متعدد دوبارہ قابل عمل انرجی ٹرانزیکشنز پایہ تکمیل تک پہنچائیں۔یوکے کلائمیٹ انویسٹمنٹ LLPکی ابتدائی ٹیم میں شمولیت سے پہلے ، دنیا کے چند کاربن سے متاثرہ معیشتوں کو گرین انرجی میں تبدیل کرنے پر خاص طورپر توجہ کے ساتھ خصوصی فنڈ کی منظوری دلوائی۔ فلپ نے اپنے فنانس کیریئر کی شروعات DNBبینک سے کی جہاں پر انہوں نے پاور اور رینوایبل انرجی ٹرانزیکشن میں مہارت حاصل کی۔
فلپ کے پاس آکسفورڈ یونیورسٹی سے ڈیولپمنٹ اکنامکس میں ایم ایس سی کی سند ہے۔
کلاڈین لِم نے 2009 میں پرائیویٹ انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ گروپ (PIDG) میں شمولیت اختیار کی تاکہ ایشیا میں PIDG کے پراجیکٹ ڈیولپمنٹ حل، انفراکو ایشیا، کو قائم کیا جا سکے اور اسے ترقی دی جا سکے۔ انہوں نے یہاں چیف آپریٹنگ آفیسر (COO) اور بعد ازاں ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے طور پر 2024 تک خدمات انجام دیں۔ انفراکو ایشیا کی نمائندگی کرتے ہوئے، جو کہ انفراضامن کی اہم شیئر ہولڈر تنظیم ہے ، کلاڈین نے انفراضامن کے قیام اور ترقی میں کلیدی کردار ادا کیا۔
PIDG میں شمولیت سے قبل، کلاڈین سنگاپور کی حکومت کے زیرِ ملکیت سرمایہ کاری ادارے، تیما سیک ہولڈنگز، میں سرمایہ کاروں سے تعلقات (Investor Relations) کی ذمہ دار تھیں۔ اس سے پہلے، وہ سنگاپور اور ہانگ کانگ میں ٹیلی کمیونیکیشن سیکٹر میں اسٹریٹجک منصوبہ بندی، کاروباری ترقی اور سرمایہ کاروں سے تعلقات جیسے شعبوں میں کام کر چکی ہیں۔ کلاڈین نے اپنے کیریئر کا آغاز سنگاپور کی سول سروس سے کیا، جہاں انہوں نے وزارتِ تجارت و صنعت، وزارتِ دفاع اور وزارتِ قومی ترقی میں خدمات انجام دیں۔
انہوں نے یونیورسٹی آف آکسفورڈ سے فلسفہ، سیاست اور معیشت میں بی اے (آنرز) کی ڈگری حاصل کی ہے اور لندن اسکول آف اکنامکس اینڈ پولیٹیکل سائنس سے فنانس اور اکنامکس میں ایم ایس سی کیا ہے۔
پاکستان میں انہوں نے ہائوس آف حبیب میں گروپ فنانس اینڈ کارپوریٹ ڈائریکٹر اور ایڈوائزر ٹو چیئرمین، نیشنل ڈیولپمنٹ لیزنگ کارپوریشن ( پاکستان میں سب سے بڑی سازو سامان کی لیزنگ کمپنی) میں چیف ایگزیکٹیو آفیسر اور فیصل اسلامک بینک آ ف بحرین EC(موجودہ فیصل بینک لمیٹڈ) میں کنٹری جنرل منیجر کے عہدوں پر فائز رہے۔ اس سے پہلے عرب بینکنگ کارپوریشن بحرین کے نائب صدر تھے۔ عرب بینکنگ کارپوریشن میں کام کے دوران انہوں نے جرمن ذیلی ادارے (ABC Daus & Co GmbH)کے سپروائزری بورڈ میں خدمات انجام دیں۔
طیب فیلو ممبر (FCA) آف انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکائونٹنٹس آف انگلینڈ اینڈ ویلز(ICAEW) اور فیلو ممبر(FCCA)آف دی ایسو سی ایشن آف چارٹرڈ سرٹیفائیڈ اکائونٹنٹس آف یوکے رہے ہیں اور برطانیہ ، کینیڈا ، مشرق وسطیٰ اور پاکستان میں پیشہ ورانہ ملازمت کا طویل تجربہ رکھتے ہیں۔ دسمبر 2022 میں، انہیں پاکستان میں سب سے پہلے DCRO انسٹی ٹیوٹ سرٹیفکیٹ ان رسک گورننس سے نوازا گیا۔(www.dcroi.org)
منیر کمال بینکنگ اور فنانشل سیکٹر میں 4عشرون سے زائد عرصے پر محیط وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے 1979میں سٹی بینک پاکستان سے ملازمت کا آغاز کیا اور 15 سال تک مختلف عہدوں پر فائزرہے جن میں ڈائریکٹر اینڈ ہیڈ آف پبلک سیکٹر اینڈ فنانشل انسٹی ٹیوشنز ، پاکستان اور سٹی بینک سنگا پور میں ڈائریکٹر ریجنل ٹریننگ سینٹر برائے ایشیا پیسفک شامل ہیں۔
کمال نے اس کے بعد فیصل بینک کے صدر اور سی ای او کا عہدہ سنبھالا اور بینک کے اندر برانچ نیٹ ورک میں توسیع اور بیلنس شیٹ کے حجم میں اضافہ اور استحکام جیسے عوامل کی سربراہی کے جوہر دکھائے۔اس کے بعد انہوں نے یونین بینک پاکستان کے صدر اور سی ای او کے طورپر خدمات انجام دیںاور ساتھ ہی وائس چیئرمین اور سی او او یونین بینک انٹرنیشنل بھی رہے۔انہوں نے مختلف اداروں میں بڑی کامیابیاں حاصل کیں جن میں یونین بینک لمیٹڈ یعنی بینک آف امریکہ، امریکن ایکسپریس کارڈز، ایمریٹس بینک انٹرنیشنل اور مشرق بینک کے سری لنکا میں آپریشنز شامل ہیں۔ یونین بینک سب سے بڑی کامیابی شمار ہوتی تھی جوکہ بعد میں اسٹینڈرڈ چارٹرڈ لمیٹڈ نے پاکستان اور خطے میں اپنی پوزیشن مستحکم بنانے کے لیے خرید لی۔اس کے بعد کمال نے KASBبینک میں صدر اور سی ای او کا عہدہ سنبھالا۔
کمال کے شاندار کارپوریٹ گورننس کے تجربے میں چیئرمین پاکستان اسٹاک ایکسچینج ، چیئرمین نیشنل بینک آف پاکستان ، ٹرسٹی شوکت خانم میموریل اسپتال، اور ڈائریکٹر اینگرو کارپوریشن، ڈی ایچ کارپوریشن اور گورنمنٹ ہولڈنگ پرائیویٹ لمیٹڈ میں خدمات بھی شامل ہیں۔
کمال آج کل ممبر بورڈ آف گورنر، نیشنل اسکول آف پبلک پالیسی(NSPP)اور بورڈ GSK( پاکستان) اور کراچی ایجوکیشن انیشی ایٹو میں خدمات انجام دیتے ہیں۔NSPPکے چیئرمین صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی بیورو کریسی کی مختلف سطح پر تربیتی کورسز کے معیار کو بہتر بنانے کے ذمہ دار ہیں۔
ماہین رحمان 2020 میں انفراضامن پاکستان کی چیف ایگزیکٹو آفیسر مقرر ہوئی تھیں اور انھوں نے پاکستان میں انفراضامن کی بنیاد رکھنے اور ابتدائی ڈھانچے کی تیاری میں اہم کردار اداکیا۔ ماہین رحمان انویسٹمنٹ بینکنگ ، ریسرچ اینڈ ایسیٹ مینجمنٹ میں 20 سال سے زائد تجربہ رکھتی ہیں ۔
اس سے پہلے ماہین رحمان الفلاح جی ایچ پی انویسٹمنٹ مینجمنٹ کی چیف ایگزیکٹو کے طورپر خدمات انجام دے چکی ہیں ، وہاں آپ کی سربراہی میں الفلاح انویسٹمنٹ پاکستان کی سرفہرست ایسیٹ مینجمنٹ کمپنیوں میں سے ایک بڑی کمپنی کے طورپر نمایاں رہی۔اس سے قبل، ماہین رحمان آئی جی آئی فنڈز کی چیف ایگزیکٹو تھیں ، اپنے دورِ ملازمت میں آپ نے آئی جی آئی فنڈز کو خسارے سے نکال کر منافع بخش ادارے میں تبدیل کیا۔آپ کی دیگر خدمات میں بی ایم اے کیپٹل مینجمنٹ کی ہیڈ آف ریسرچ، اے بی این ایمرو بینک میں ایسوسی ایٹ اور میرل لنچ میں انویسٹمنٹ بینکنگ اینا لسٹ کے عہدوں پر ملازمت شامل ہے ۔آپ کے پاس مختلف جغرافیائی معاشروں میں کام کرنے کا وسیع تجربہ ہے۔
ماہین رحمان کو 2015 میں ’’40 Under 40’s women to watch ‘‘ کی فہرست میں شامل ہونے کا اعزاز ملا۔ آپ نے مختلف فورمز پر پاکستان کی نمائندگی بھی کی ہے اس کے علاوہ گلیکسو سمتھ کلائین پاکستان میں آزاد ڈائریکٹر، اسپیشل ٹیکنالوجی زونز اتھارٹی ، پاکستان ی ڈائریکٹر ، ناصرہ پبلک اسکول کی ڈائریکٹر اور کیٹالسٹ لیبس کی ایڈوائزر کے طورپر بھی آپ نے خدمات انجام دی ہیں ۔ آپ میوچل فنڈز ایسوسی ایشن آف پاکستان کی سابقہ چیئر پرسن اور ڈائریکٹر، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف کارپوریٹ گورننس کی سابقہ ڈائریکٹرکے علاوہ وزیراعظم کی ٹاسک فورس برائے وقف املاک ٹرسٹ بورڈ کی تنظیم ِ نو کی سابق رکن بھی رہی ہیں ۔
ماہین رحمان کے وسیع تجربے اورپیشہ ورانہ کامیابیوں کے علاوہ آپ نے لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (LUMS ) سے اکنامکس میں بیچلرز آف سائنس (آنرز) کے ساتھ برطانیہ کے واروک بزنس اسکول سے فنانس اینڈ اکنامکس میں ماسٹرز آف سائنس کی سند حاصل کی ہے ۔