infrazamin

7.1 ارب روپے کی سوشل امپیکٹ فنانسنگ سہولت سے زرعی انفراسٹرکچر کو فروغ دینے کے لئے انفرا ضامن، بینک آف پنجاب، فیصل بینک اور پاک برونائی انویسٹمنٹ کمپنی کا اشتراک

اسلام آباد، 4 جون، 2026۔ انفرا ضامن پاکستان (IZP) نے اپنی ایگری اسٹوریج پورٹ فولیو فنانسنگ سہولت (Agri-Storage Portfolio Financing Facility) کے باضابطہ آغاز کا اعلان کیا ہے، یہ فلیگ شپ اقدام سوشل امپیکٹ فنانسنگ کمیٹی اور وزارتِ خزانہ کی زیر نگرانی کام کرنے والی ٹاسک فورس کی مشترکہ کاوشوں سے تشکیل پایا، کمیٹی کی سربراہی کے فرائض وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے سرانجام دیئے۔ اس اقدام کا مقصد ملک کی زرعی ویلیو چین کو مضبوط بنانا اور فصلوں کی کٹائی کے بعد ہونے والے مسلسل نقصانات کی روک تھام کرنا ہے۔

یہ منصوبہ مکمل نفاذ پر پاکستان بھر میں زرعی اسٹوریج کے شعبے میں نجی سرمایہ کاری کی مد میں 7.1 ارب روپے تک کے سرمائے کو متحرک کرے گا (اس میں 5 ارب روپے قرض اور 2.1 ارب روپے ایکویٹی سرمایہ کاری شامل ہوگی)۔ اس منصوبے کو انفرا ضامن کی جانب سے 2.5 ارب روپے کی 50 فیصد پرنسپل کریڈٹ گارنٹی کی معاونت حاصل ہوگی۔ اسکے تحت حاصل ہونے والے فنڈز ملک بھر میں زرعی گوداموں، سائلوز اور کولڈ اسٹوریج سہولیات کی تعمیر، توسیع اور اپ گریڈیشن پر خرچ کئے جائیں گے۔ ابتدائی مرحلے میں اس پروگرام کا آغاز پاکستان کے صف اول کے مالیاتی اداروں پاک برونائی انویسٹمنٹ کمپنی لمیٹڈ (PBICL)، فیصل بینک اور بینک آف پنجاب کے اشتراک سے کیا جا رہا ہے، جو یہ سہولت اپنے بڑے اور چھوٹے و درمیانی کاروباری صارفین کو فراہم کریں گے۔

سوشل امپیکٹ فنانسنگ (SIF) فریم ورک نتائج پر مبنی ماڈل ہے، جس کے تحت آئندہ دو برسوں کے دوران پاکستان بھر میں گندم، اناج، پھلوں اور سبزیوں کے لیے 3 لاکھ میٹرک ٹن سے زائد ذخیرہ کرنے کی گنجائش پیدا کرنے اور اس میں بہتری کے ذریعے معاشی و سماجی نتائج متوقع ہیں۔ یہ سرمایہ کاری زرعی اسٹوریج کے انفراسٹرکچر میں موجود اہم خلا کو بھرنے، فصلوں کے بعد پہنچنے والے نقصانات کم کرنے اور کسانوں کو بہتر منڈیوں تک رسائی فراہم کرنے میں مدد دے گی، جس سے ان کی آمدنی میں اضافہ ہوگا اور مالی طور پر مزید استحکام آئے گا۔

س پروگرام کے نتیجے میں زرعی ویلیو چین کے مختلف شعبوں بشمول ویئرہاؤسنگ، لاجسٹکس، ٹرانسپورٹیشن، اسٹوریج مینجمنٹ، زرعی پراسیسنگ اور تجارت میں براہِ راست اور بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ پیکیجنگ، کولڈ چین لاجسٹکس، تعمیرات، مالیاتی خدمات اور زرعی مداخل جیسے معاون شعبوں میں بھی ترقی کو فروغ ملے گا۔ پیداوار کے حامل علاقوں کے نزدیک روزگار کے پائیدار مواقع پیدا ہونے سے دیہی آبادی کی شہروں کی جانب نقل مکانی میں بھی کمی متوقع ہے، جبکہ صحت، تعلیم اور مجموعی معیارِ زندگی پر گھریلو اخراجات میں اضافے کے ذریعے وسیع تر سماجی فوائد بھی حاصل ہوں گے۔

مزید برآں، اس اقدام کے تحت تعمیر کئے جانے والے گودام اور سائلوز اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی الیکٹرانک ویئر ہاؤس رسید (EWR) فنانسنگ اسکیم کے لیے بھی اہل ہوں گے۔ یہ اقدام وزارتِ خزانہ کے زیر تعاون وزیراعظم کے جدید اقدام ”زرخیز-ای” (ZARKHEZ-E)کو بھی تقویت دے گا، جس کے تحت چھوٹے کاشتکاروں کو بغیر ضمانت قرض فراہم کئے جاتے ہیں، اسکی بدولت کسانوں کی مالی شمولیت اور ورکنگ کیپیٹل تک رسائی مزید بہتر ہوگی۔

وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب نے کہا، ”یہ اقدام حکومت کے اس عزم کو اجاگر کرتا ہے کہ نجی شعبے کی زیر قیادت ایسی جدید مالیاتی حکمتِ عملیوں کو فروغ دیا جائے جو واضح اور مؤثر نتائج سے منسلک ہوں اور پاکستان کے زرعی شعبے کو درپیش منظم چیلنجز کا حل پیش کریں۔ وزارتِ خزانہ کی زیر قیادت سوشل امپیکٹ فنانسنگ ٹاسک فورس نے مختلف شراکت داروں کو یکجا کر کے مارکیٹ کے مطابق ایسے اقدامات تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے جو نجی سرمائے کو جامع اور پائیدار ترقی کے لیے متحرک کریں۔ اس پس منظر میں حکومتِ پاکستان کی کوئی گارنٹی شامل نہیں، تاہم انفرا ضامن نے آگے بڑھ کر کریڈٹ گارنٹی پروگرام فراہم کیا ہے جو نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو لاحق خطرات میں کمی لانے کے ساتھ ساتھ زرعی ویلیو چین انفراسٹرکچر میں طویل المدتی سرمایہ کاری کی راہ ہموار کر رہا ہے۔”

انفرا ضامن پاکستان کی چیف ایگزیکٹو آفیسر ماہین رحمان نے کہا، ”یہ سہولت دیہی اور نیم دیہی علاقوں میں ہر قسم کی زرعی پیداوار کے اسٹوریج کے لئے نجی سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرے گی۔ ہمیں خوشی ہے کہ ہم اپنے مالیاتی شراکت داروں میں شامل پاک برونائی، بینک آف پنجاب اور فیصل بینک کو 50 فیصد گارنٹی کوریج کے ساتھ پورٹ فولیو کی بنیاد پر سہولت فراہم کر رہے ہیں، جس سے زرعی اسٹوریج فنانسنگ میں اضافہ ہوگا اور ایسے قابلِ توسیع حل سامنے آئیں گے جو نقصانات کم کرنے اور زرعی نظام کی مجموعی مضبوطی میں معاون ثابت ہوں گے۔ ہم پاکستان کو خوراک کے اعتبار سے محفوظ ملک بنانے سے متعلق اس اقدام کو عملی شکل دینے میں وزارتِ خزانہ اور اپنے بینکنگ شراکت داروں کے وژن اور انکے مسلسل تعاون پر مشکور ہیں۔”

بینک آف پنجاب کے سی ای او اور پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے چیئرمین ظفر مسعود نے کہا، ”یہ ایک خوش آئند پیش رفت ہے اور اس سمت میں پہلا قدم اٹھانے پر میں ٹاسک فورس کو مبارکباد دیتا ہوں۔ تاہم، الیکٹرانک ویئر ہاؤس رسید (EWR) اور ایگریگیٹر فنانسنگ (AF) کے مؤثر نظام کے بغیر ایسے اقدامات محدود نتائج ہی دے سکتے ہیں۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ EWR اور AF کے باضابطہ فریم ورکس جلد نافذ کریں تاکہ ایسے منصوبوں کو بڑے پیمانے پر کامیاب بنایا جا سکے۔ مارکیٹ تک رسائی میں EWRs اور ایگریگیٹر فنانسنگ کے لئے یقینا لسٹڈ سکوک کی بڑے پیمانے پر ٹریڈنگ میں پی ایم ای ایکس (PMEX) کا کردار بھی نہایت اہم ہوگا۔ اس ٹاسک فورس کو اگلے مرحلے میں ان ضروری فریم ورکس کی تشکیل پر توجہ دینی چاہیے۔”

فیصل بینک لمیٹڈ کے سی ای او یوسف حسین نے کہا، ”پاکستان کا زرعی شعبہ ملک کے معاشی استحکام، غذائی تحفظ اور دیہی روزگار کے لئے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ زرعی ویلیو چین کی کارکردگی بہتر بنانے اور فصلوں کے بعد ہونے والے نقصانات کم کرنے کے لیے جدید زرعی اسٹوریجز اور ویئرہاؤسنگ کے انفراسٹرکچر کا فروغ ناگزیر ہے۔ فیصل بینک وزارتِ خزانہ، انفرا ضامن اور دیگر شراکت دار اداروں کے ساتھ اس اہم اقدام کا حصہ بننے پر خوش ہے، جو زرعی انفراسٹرکچر میں نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو فروغ دے کر پاکستان کے زرعی نظام کی طویل المدتی اور پائیدار ترقی کیلئے معاون ہوگا۔”

پاک برونائی انویسٹمنٹ کمپنی لمیٹڈ (PBICL) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عامر شمیم نے کہا، ”ہم اس شراکت داری کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، یہ منصوبہ پاکستان کے زرعی اسٹوریج کے شعبے میں نمایاں تبدیلی لا سکتا ہے۔ ہمارے نزدیک زرعی ویئرہاؤسنگ محض اسٹوریج انفراسٹرکچر کی سہولت تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ کھیت کی اہمیت کے تحفظ، فصلوں کے بعد ہونے والے نقصانات کم کرنے اور قومی سطح پر غذائی تحفظ کو مضبوط بنانے کا بھی ایک اہم ذریعہ ہیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی FFSAP سہولت کے ذریعے اس شعبے میں پہلے سے کردار ادا کرنے کے بعد، ہم ایس ایم ایز اور کارپوریٹ زرعی کاروباروں کی مالی معاونت کے لئے عملی اور منظم حل فراہم کرنے کے اپنے عزم پر قائم ہے۔ انفرا ضامن کے ساتھ یہ شراکت داری گودام، سائلو اور کولڈ اسٹوریج کے ایسے قابلِ عمل منصوبوں کو فروغ دے گی جو کسانوں، کاروباری اداروں اور بڑے پیمانے پر معیشت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں گے۔”

انفرا ضامن نے اس پیش رفت کو ممکن بنانے میں وزارتِ خزانہ اور شریک مالیاتی اداروں کے تعاون پر اظہارِ تشکر بھی کیا۔