infrazamin

انفرا ضامن کی جانب سے پاکستان میں پائیدار ترقی کو تیز کرنے کیلئے لندن کلائمیٹ ایکشن ویک میں عالمی رہنماؤں کا اجلاس


انفرا ضامن پاکستان نے پرائیویٹ انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ گروپ (PIDG) کے اشتراک سے لندن کلائمیٹ ایکشن ویک 2026 کے موقع پر پی آئی ڈی جی کے لندن ہیڈ کوارٹرز میں "پاکستان کی پائیدار ترقی میں سرمایہ کاری” کے عنوان سے ایک خصوصی گول میز کانفرنس کا انعقاد کیا۔ اس کانفرنس میں حکومتی نمائندوں، مالیاتی اداروں، ترقیاتی فنانس اداروں، سرمایہ کاروں اور نجی شعبے کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اس پروگرام میں سرکاری اور نجی شعبے کی اہم شخصیات شریک ہوئیں، جن میں پاکستان میں تعینات برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ، پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور او جی ڈی سی ایل کے چیئرمین ظفر مسعود، بینک الفلاح کے صدر اور سی ای او عاطف باجوہ، اور ایکومین فنڈز کی ایم ڈی عائشہ خان شامل ہیں۔ اجلاس کی صدارت انفرا ضامن پاکستان کی سی ای او ماہم رحمان اور پی آئی ڈی جی کے سی ای او فلپ ویلاہو نے مشترکہ طور پر سرانجام دی۔ اس فورم میں پاکستان اور برطانیہ کے ترقیاتی مالیاتی اداروں، کمرشل بینکوں، ادارہ جاتی سرمایہ کاروں اور ماحولیاتی تنظیموں کے 30 سے زائد سینئر نمائندوں نے شرکت کی۔

کانفرنس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے اور انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ شرکاء نے اتفاق کیا کہ ان مواقع سے فائدہ اٹھانے اور کام کو بڑے پیمانے پر آگے بڑھانے کے لیے سرمایہ کاروں، سرمایہ فراہم کرنے والے متنوع اداروں، پراجیکٹ مالکان/ ڈویلپرز اور حکومت کے درمیان مضبوط اشتراک ناگزیر ہے۔ اجلاس میں سرمایہ کاری کے لئے قابل عمل منصوبوں کی تیاری، سازگار پالیسیوں اور عملی مالیاتی حل کو فروغ دینے کی ضرورت پر روشنی ڈالی گئی، جو سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے بنیادی محرک ثابت ہوں گے۔

اجلاس کے اہم نتائج درج ذیل ہیں:

  • مشترکہ اسٹیک ہولڈرز کی ٹاسک فورس کے ذریعے سرمایہ کاری کے منصوبوں کی تیاری: ایک ایسا مربوط پلیٹ فارم بنانا جو سرکاری و نجی شعبے اور مالیاتی اداروں کو ایک جگہ اکھٹا کرے تاکہ منصوبوں کی نشاندہی، ترقی اور سرمایہ کاری کے لیے قابلِ عمل منصوبوں کی فہرست تیار کرنے کے عمل کو تیز کیا جا سکے۔
  • ریسرچ اور مارکیٹ انٹیلی جنس کو مضبوط بنانا:مارکیٹ ریسرچ اور ٹھوس شواہد کی روشنی میں تجزیوں کو بہتر بنانا تاکہ بہتر مالیاتی طریقہ کار وضع کرنے اور پالیسی سازی میں معاونت فراہم کی جا سکے۔
  • موسمیاتی تبدیلیوں سے محفوظ زراعت کو ترجیح دینا:پیداواری صلاحیت، غذائی تحفظ اور معاشی استحکام کو فروغ دینے کے لیے موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ جدید زراعت میں سرمایہ کاری کو وسعت دینا۔
  • سازگار پالیسی سازی کا فروغ: نجی سرمایہ کاری کی راہیں کھولنے کے لیے ہدف پر مبنی پالیسیوں اور ریگولیٹری مراعات کے نظام کو مزید مضبوط بنانا۔

گول میز کانفرنس کا اختتام اس مشترکہ عزم کے اظہار پر کیا گیا کہ پاکستان میں پائیدار انفراسٹرکچر کے لیے نجی سرمائے کی بڑے پیمانے پر فراہمی کو ممکن بنایا جائے گا، تاکہ ملک کو ایک ماحول دوست، مستحکم اور جامع معیشت کی طرف گامزن کرنے میں مدد مل سکے۔

شرکاء نے لندن کلائمیٹ ایکشن ویک 2026 کے دوران اس کانفرنس کے بروقت انعقاد پر انفرا ضامن پاکستان کی کاوشوں کو سراہا اور مستقبل میں بھی ایسے اقدامات کے ذریعے پاکستان میں شراکت داری بڑھانے، جدت کے فروغ اور پائیدار سرمایہ کاری کو تیز کرنے کے لیے اپنا تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔