infrazamin

انفرا ضامن پاکستان، انفرالیکٹرک، ڈی آئی بی پاکستان (لیڈ ارینجر)، بینک الفلاح (جوائنٹ لیڈ بینک) اور میزان بینک (امپورٹس بینک)کے اشتراک سے پاکستان میں ٹیلی کام شعبے کیلئے 3 ارب روپے کا پہلا AAA ریٹنگ یافتہ گرین سکوک جاری

کراچی، 20اپریل، 2026۔ انفرا ضامن پاکستان لمیٹڈ نے بریلانز گروپ کی کمپنی انفرالیکٹرک (Infralectric)، دبئی اسلامک بینک لمیٹڈ، بینک الفلاح لمیٹڈ اور میزان بینک لمیٹڈ کے اشتراک سے پاکستان کے ٹیلی کام شعبے کے لیے 3 ارب روپے مالیت کے پہلے AAA ریٹنگ یافتہ گرین سکوک کے اجرا کے معاہدے کا اعلان کیا ہے۔ یہ بڑی پیش رفت پائیدار انفراسٹرکچر کی مالی معاونت اور ماحولیات سے ہم آہنگ سرمایہ کاری کے فروغ میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔ اس معاہدے کے تحت انفرا ضامن پاکستان کی جانب سے انفرالیکٹرک پرائیویٹ لمیٹڈ کے جاری کردہ 3 ارب روپے کے گرین سکوک کے اصل سرمائے پر 100 فیصد ضمانت فراہم کیا جارہا ہے جبکہ دبئی اسلامک بینک پاکستان لمیٹڈ گرین سکوک کے اجراء میں بطور لیڈ ارینجرکے طور پر خدمات سرانجام دے رہا ہے۔ یہ پیش رفت اس بات کی واضح مثال ہے کہ کس طرح اخلاقی بنیادوں پر قائم کیپٹل مارکیٹس ماحولیاتی تقاضوں سے ہم آہنگ، اور وسیع پیمانے پر قابل توسیع انفراسٹرکچر فناسنگ کی جانب منتقلی میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔
اس سرمایہ کاری سے پاکستان میں ٹیلی کام ٹاورز کے لیے لیتھیم آئن بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز (BESS) اور سولر توانائی کے ایک سب سے بڑے کمرشل منصوبے کے لئے سرمایہ فراہم کیا جائے گا۔ اس سکوک میں سرمایہ کاروں کی بھرپور دلچسپی دیکھنے میں آئی، جس کے تمام قانونی تقاضے پورے ہونے کے بعد ابتدائی فنڈز جاری کیے جائیں گے۔
پاکستان میں ٹیلی کام کا شعبہ تقریباً 19 کروڑ موبائل صارفین کو خدمات فراہم کرتا ہے، اور یہ ملک کا اہم ترین شعبہ شمار ہوتا ہے جہاں توانائی کا استعمال بہت زیادہ ہوتا ہے اور انکا مسلسل فعال رہنا انتہائی ضروری ہے۔ اس وقت ملک بھر میں 50 ہزار سے زائد ٹیلی کام ٹاورز موجود ہیں، ان میں بہت سے ٹاورز کمزور گرڈ یا آف گرڈ ذرائع پر چل رہے ہیں۔ اس صورتحال کی وجہ سے ماضی میں ڈیزل جنریٹرز پر انحصار بڑھا، جس سے اخراجات اور کاربن کے اخراج میں اضافہ ہوا۔اس منصوبے کے تحت، انفرالیکٹرک تقریباً 1,955 ٹیلی کام ٹاور سائٹس پر جدید بیٹری اسٹوریج، سولر پی وی، مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید نظام اور ریموٹ مانیٹرنگ ٹیکنالوجی نصب کرے گا۔ اس سے ڈیزل کے استعمال میں نمایاں کمی، نیٹ ورک کی کارکردگی میں بہتری، آپریشنل اخراجات میں کمی اور ماحولیاتی آلودگی میں کمی ممکن ہو سکے گی۔ اس منصوبے کے اہم فوائد میں کاربن کے اخراج میں کمی اور فیول کی درآمدی لاگت میں کمی بھی شامل ہیں۔
اس موقع پر انفرا ضامن پاکستان کی چیف ایگزیکٹو آفیسر، ماہین رحمان نے کہا، ”یہ اہم پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ کریڈٹ کے جدید طریقوں کے ذریعے بڑے گرین انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کے نئے راستے کھولے جا سکتے ہیں۔ پاکستان کے ٹیلی کام شعبے کے لیے انفراضامن کی طرف سے پہلے گرین سکوک کی ضمانت فراہم کرنا ہمارے لیے باعثِ فخرہے، اور اس کے ذریعے ہم مستحکم نجی سرمایہ کاری کو ماحول دوست منصوبوں کی طرف راغب کر رہے ہیں جبکہ پاکستان کی لون کیپٹل مارکیٹس کو مزید مضبوط اور وسعت دینا بھی مقصود ہے۔ ہمیں انفرالیکٹرک اور دبئی اسلامک بینک کے ساتھ اس منفرد منصوبے میں شراکت داری پر خوشی ہے۔”
بریلانز گروپ کے گروپ سی ای او، بلال قریشی نے کہا، ” یہ معاہدہ کاروباری ماڈل میں جدت کی ایک نئی مثال قائم کرتا ہے۔ اس اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ نجی سرمایہ کاری کے ذریعے توانائی کے شعبے میں بڑی تبدیلی لائی جا سکتی ہے، ڈیزل پر انحصار کم کیا جا سکتا ہے، زرمبادلہ پر دباؤ میں کمی لائی جاسکتی ہے، اور پاکستان میں مستحکم انداز سے مصنوعی ذہانت سے آراستہ ٹیلی کام نیٹ ورک تشکیل دیا جا سکتا ہے۔”
دبئی اسلامک بینک پاکستان لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر، محمد علی گلفراز نے کہا، ”یہ معاہدہ ملک میں بینک کے گرین انرجی کے عزم سے متعلق ایک بڑا سنگِ میل ہے۔ 3 ارب روپے کے اس گرین سکوک کی تشکیل اس بات کی عملی مثال ہے کہ اسلامی کیپیٹل مارکیٹس کس طرح اہم انفراسٹرکچر کی ضروریات اور ماحول دوست سرمایہ کاری کے درمیان مؤثر رابطہ قائم کر سکتی ہیں۔ پاکستان کے ٹیلی کام نظام کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے سے نہ صرف روایتی توانائی پر انحصار کم کرے گا بلکہ یہ عمل ڈیجیٹل معیشت کو بھی زیادہ مضبوط اور پائیدار بنائے گا۔ یہ پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ اخلاقی مالیاتی نظام بڑے پیمانے پر مثبت ماحولیاتی اثرات پیدا کرنے میں ایک مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔”
بینک الفلاح لمیٹڈ کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر، عاطف باجوہ نے کہا، ” بینک الفلاح اس تاریخ ساز گرین سکوک کا حصہ بننے پر خوش ہے، یہ پاکستان میں گرین فنانس اور پائیدار انفراسٹرکچر کی ترقی کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔ یہ معاہدہ بینک الفلاح کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ سرمائے کی ایسی مارکیٹس کو فروغ دے رہا ہے جو ماحولیاتی اہداف سے ہم آہنگ ہیں، اور ماحولیاتی طور پر ذمہ دار منصوبوں میں نجی شعبے کی سرمایہ کاری کے لئے اپنا کردار ادا کررہا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ یہ اقدام ٹیلی کام شعبے میں صاف توانائی کو فروغ دے گا اور ملک بھر میں اہم انفراسٹرکچر کو مستحکم اور پائیدار بنائے گا۔ میں انفرالیکٹرک، انفرا ضامن اور اس منصوبے میں شامل تمام شراکت داروں کا دل کی گہرائی سے شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے باہمی تعاون اور مسلسل کاوشوں کے ذریعے اس معاہدے کو کامیابی سے پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ "
میزان بینک کے چیف آپریٹنگ آفیسر، ہول سیل بینکنگ، سید تنویر حسین نے کہا،” میزان بینک کی جانب سے اس بڑے گرین سکوک میں شرکت پاکستان میں پائیدار اور انفراسٹرکچر کی ترقی کے عمل کو اسلامی فنانس کے کردار کی روشنی میں آگے بڑھانے کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔یہ منصوبہ ٹیلی کام انفراسٹرکچر کے لیے گرین انرجی حل فراہم کر کے کاربن اخراج میں کمی لانے اور آپریشنل کارکردگی میں بہتری کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ انفرا ضامن کی مالی ضمانت نے اس ڈھانچے کو مزید مضبوط بنایا ہے، جس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھا ہے اور مارکیٹ میں زیادہ شرکت ممکن ہوئی ہے۔ ایسے معاہدے پاکستان کی اسلامی سرمائے کی مارکیٹ میں مزید وسعت لائیں گے اور معیشت کو زیادہ پائیدار اور مستحکم بنانے میں مدد دیں گے۔”
اس معاہدے میں جہاں انفراضامن پاکستان بطور ضامن، انفرالیکٹرک پرائیویٹ لمیٹڈ بطور اجرا کنندہ اور دبئی اسلامک بینک لمیٹڈ لیڈ ارینجر کے طور پر شامل ہیں، وہیں بینک الفلاح لمیٹڈ جوائنٹ لیڈ ارینجر، میزان بینک لمیٹڈ ایل سی (امپورٹ) بینک، بینک اسلامی پاکستان لمیٹڈ انویسٹمنٹ ایجنٹ، جبکہ ڈی آئی بی پی ایف (DIB PF)، ڈی آئی بی جی ایف (DIB GF)، الفلاح اسیٹ مینجمنٹ لمیٹڈ اور این بی پی فنڈ مینجمنٹ لمیٹڈ بطور سرمایہ کار شریک ہیں۔ اس کے علاوہ احمد اینڈ قاضی بطور قانونی مشیر برائے سرمایہ کار، ایچ پی | ایف کے ایم بطور قانونی مشیر برائے اجرا کنندہ، الہلال بطور شریعہ ایڈوائزر، پاکستان انوائرمنٹ ٹرسٹ بطور گرین بانڈ کنسلٹنٹ، اور پاکستان کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی (پاکرا) بطور ریٹنگ ایجنسی اس منصوبے کا حصہ ہیں۔
یہ منصوبہ تنصیب، دیکھ بھال، مقامی مینوفیکچرنگ، ریموٹ مانیٹرنگ اور تکنیکی فیلڈ آپریشنز کے ذریعے براہِ راست اور بالواسطہ طور پر سینکڑوں روزگار کے مواقع پیدا کرے گا۔ اس اقدام کے نتیجے میں ڈیزل جنریٹرز کے بجائے صاف توانائی کے استعمال سے نہ صرف ماحولیات کا تحفظ ممکن ہوگا بلکہ پاکستان کے ٹیلی کام انفراسٹرکچر کو مزید مضبوط اور پائیدار بنایا جا سکے گا۔ یہ اقدام پاکستان میں اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف بالخصوص سستی اور صاف توانائی، صنعتی انفرااسٹرکچر و جدت، ماحولیاتی تحفظ اور شراکت داری کے حصول میں بھی معاون ثابت ہوگا۔
یہ سنگِ میل انفرا ضامن پاکستان کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ ملک میں پائیدار اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے جدید مالیاتی حل فراہم کرتا رہے گا اور نجی سرمایہ کاری کو پائیدار، ماحولیات سے ہم آہنگ اور ترقیاتی انفراسٹرکچر کے منصوبوں میں شامل کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔